Recent Videos 0

Recent Reviews

Musafar Tayaraaa

0
Musafar Tayaraaa بھارت میں مسافر طیارہ اڑان بھرتے ہوئے رن وے پر موجود بھینس سے جا ٹکرایا سورت: بھارتی ریاست گجرات کے شہر سورت میں نجی ایئر لائن کا طیارہ پرواز کے لیے اڑان بھرتے ہوئے رن وے پر موجود بھینس سے ٹکرا گیا لیکن حادثے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مسافر بردار طیارہ 800-737 گجرات کے شہر سورت کے ایئرپورٹ سے 146 مسافروں کو لے کر دہلی کے لیے اڑان بھرنے لگا تو اس دوران رن وے پر موجود بھینس سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں بھینس موقع پر ہی ہلاک ہوگئی جبکہ حادثے میں جہاز میں موجود تمام مسافر مکمل طور پر محفوظ رہے تاہم حادثے کے باعث جہاز کو بھاری نقصان پہنچا جس کی مرمت میں کئی لاکھ ڈالر کا خرچ آئے گا۔ نجی ایئرلائن کا کہنا ہے کہ رن وے کی سطح سیاہ ہونے کے باعث پائلٹ کو بھینس نظر نہ آنے سے حادثہ پیش آیا تاہم حادثے کے بعد مسافروں کو متبادل طیارے سے منزل کی جانب روانہ کردیا گیا جس کےبعد ایئرلائن نے سورت میں فضائی آپریشن غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا ہے جبکہ حادثے کی تحقیقات کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔ Share this:Click to share on Twitter (Opens in new window)Share on Facebook (Opens in new window)Click to share on Google+ (Opens in new...
Read More of Musafar Tayaraaa

Saljokee Saltanat

0
Saljokee Saltanat سلجوقی سلطنت کا ایک بادشاہ سلطان ملک شاہ نامی ھوا ھے.. ایک دن اصفھان کے جنگل میں شکار کو نکلا.. ایک گاؤں سے گزر رھا تھا کہ شاھی آدمیوں کو بھوک لگی.. ایک غریب بڑھیا کی گاۓ بندھی ھوئی تھی جس کے دودھ سے بڑھیا کے تین بچے پلتے تھے.. انھوں نے اس کو ذبح کیا اور خوب کباب بنا کر کھاۓ.. بڑھیا چلائی مگر کسی نے پرواہ نہ کی.. دل میں کہنے لگی کہ بادشاہ سے کیوں نہ فریاد کی جاۓ.. ایک روز خبر ملی کہ بادشاہ نھر کے پل سے گزرے گا.. وہ وھاں جاکر کھڑی ھوگئ.. بادشاہ کی سواری وھاں پہنچی تو اس نے آگے بڑھ کر گھوڑے کی لگام تھام لی اور کہنے لگی.. “بادشاہ سلامت ! میرا انصاف نھر کے پل پر کیجۓ گا یا پل صراط پر..؟” بادشاہ کے ھمراھی بڑھیا کی جرات دیکھ کر حیران ھوگۓ اور اس کو وھاں سے ھٹانا چاھا لیکن بادشاہ گھوڑے پرسے اتر پڑا اور کہنے لگا.. “پل صراط کی طاقت نھیں.. یھیں انصاف کروں گا..” بڑھیا نے سارا ماجرا کہہ سنایا.. بادشاہ کو بھت افسوس ھوا.. جن لوگوں کا قصور تھا ان کو سخت سزا دی اور بڑھیا کو ایک گاۓ کے عوض ستر گائیں عطا کیں.. بڑھیا بھت خوش ھوئی اور کہنے لگی.. “اے بادشاہ ! تونے میرے ساتھ انصاف کیا خدا اس کا بدلہ تجھے دے گا..” انصاف دلانے والا بادشاہ خدا کی رحمت میں ھوتا ھے.. (تعمیر حیات) یہ واقعہ صرف ایک بادشاہ کے ساتھ خاص نھیں بلکہ ھر صاحب اختیار کے لۓ ھے کہ ھر شخص ظلم اور ناانصافی سے بچے.. ھر چیز کا آپ کو حساب دینا ھے.. کیونکہ.. .. .. ان اللہ سریع الحساب.. (القران) اللہ بھت جلد حساب لینے والا ھے………!! Share this:Click to share on Twitter (Opens in new window)Share on Facebook (Opens in new window)Click to share on Google+ (Opens in new...
Read More of Saljokee Saltanat

Ak Aadmi aur char Bete

0
Ak Aadmi aur char Bete   ایک آدمی کے چار بیٹے تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ اُس کے بیٹے یہ سبق سیکھ لیں کہ کسی کو پرکھنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں۔ لہٰذا اس بات کو سمجھانے کیلئے اُس نے اپنے بیٹوں کو ایک سفر پر روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور دور درازعلاقے میں ناشپاتی کا ایک درخت دیکھنے کیلئے بھیجا۔ ایک وقت میں ایک بیٹے کو سفر پر بھیجا کہ جاؤ اور اُس درخت کو دیکھ کر آؤ۔ باری باری سب کا سفر شروع ہوا۔ پہلا بیٹا سردی کے موسم میں گیا، دوسرا بہار میں، تیسرا گرمی کے موسم میں اور سب سے چھوٹا بیٹا خزاں کے موسم میں گیا۔ جب سب بیٹے اپنا اپنا سفر ختم کر کے واپس لوٹ آئے تو اُس آدمی نے اپنے چاروں بیٹوں کو ایک ساتھ طلب کیا اور سب سے اُن کے سفر کی الگ الگ تفصیل کے بارے میں پوچھا۔ پہلا بیٹا جو جاڑے کے موسم میں اُس درخت کو دیکھنے گیا تھا، نے کہا کہ وہ درخت بہت بدصورت، جُھکا ہوا اورٹیڑھا سا تھا۔ دوسرے بیٹے نے کہا نہیں و ہ درخت تو بہت ہرا بھرا تھا۔ہرے ہرے پتوں سے بھرا ہوا۔ تیسرے بیٹے نے اُن دونوں سے اختلاف کیا کہ وہ درخت تو پھولوں سے بھرا ہوا تھا اور اُس کی مہک دور دور تک آ رہی تھی اوریہ کہ اُس سے حسین منظر اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ سب سے چھوٹے بیٹے نے اپنے سب بڑے بھائیوں سے اختلاف ظاہر کیا کہ وہ ناشپاتی کا درخت تو پھل سے لدا ہوا تھا اور اُس پھل کے بوجھ سے درخت زمین سے لگازندگی سے بھر پورنظر آرہا تھا۔ یہ سب سُننے کے بعد اُس آدمی نے مسکرا کر اپنے چاروں بیٹوں کی جانب دیکھا اور کہا :’’تم چاروں میں سے کوئی بھی غلط نہیں کہہ رہا۔ سب اپنی اپنی جگہ درست ہیں ‘‘۔ بیٹے باپ کا جواب سُن کر بہت حیران ہوئے کہ ایسا کس طرح ممکن ہے۔ باپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہاـ: ’’تم کسی بھی د رخت کو یا شخص کو صرف ایک موسم یا حالت میں دیکھ کر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ کسی فرد کو جانچنے کیلئے تھوڑا وقت ضروری ہوتا ہے۔ انسان کبھی کسی کیفیت میں ہوتا ہے کبھی کسی کیفیت میں۔ اگر درخت کو تم نے جاڑے کے موسم...
Read More of Ak Aadmi aur char Bete

Baghdad Ka Tajar

0
Baghdad Ka Tajar   علامہ عبدالرحمان ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “لطائف علمیہ” میں بغداد میں رھنے والے ایک تاجر کی دو بیویوں کا تذکرہ کیا ھے جنھوں نے اک دوسرے کے حقوق کا ایسا خیال رکھا کہ موجودہ دور میں اس کی مثال پیش کرنا مشکل ھے.. چانجہ علامہ فرماتے ھیں… “بغداد میں کپڑے کا ایک مالدار تاجر رھتا تھا جوکہ شادی شدہ تھا.. اخلاق کا اچھا تھا.. اس کو ایک خوبصورت مالدار عورت کے رشتے کی پیشکش کی گئ مگر اس تاجر نے کہا کہ میری چچا زاد بھن سے شادی ھو چکی ھے اور میں نے اس سے یہ عہد کر رکھا ھے کہ میں اسے چھوڑوں گا نہیں.. میرا اس سے ایک لڑکا بھی ھے.. مگر وہ دوسری عورت کہ جس کا رشتہ آیا تھا’ اس پر راضی تھی کہ یہ ھفتہ میں صرف دو مرتبہ اس کے پاس آ جایا کرے.. دکاندار اس پر راضی ھوگیا اور اس سے نکاح کرلیا.. اس کے ساتھ گھر گیا.. پھر واپس اپنے گھر آیا اور اپنی اھلیہ سے کہنے لگا کہ میرے ایک دوست نے کہا ھے کہ آج میں اس کے پاس رھوں.. یہ کہہ کر وہ چلاگیا اور رات اس عورت کے یھاں گزاری.. پھر یہ معمول ھوگیا کہ وہ ھر روز ظھر کی نماز کے بعد اس عورت کے پاس جانے لگا.. حتی کہ آٹھ ماہ گزرگۓ.. اس دکاندار کی پہلی بیوی کو اپنے میاں کے حالات کچھ عجیب عجیب سے لگنے لگے.. اس نے اپنی باندی سے کہا جب یہ گھر سے نکلیں تو دیکھنا کہ کہاں جاتے ھیں.. چنانچہ وہ دکاندار جب گھر سے نکلا تو باندی بھی پیچھے ھولی… وہ اپنی دکان پر آگیا.. باندی کہیں چھپی رھی.. جب ظہر کا وقت ھوا تو وہ دکان سے اٹھ کر جانے لگا… باندی بھی پیچھے چل پڑی… دکاندار کو باندی کے پیچھے آنے کا بالکل پتہ نھیں ھے… وہ اسی بے خبری میں اس عورت کے گھر چلا گیا… باندی پڑوسیوں کے پاس آئی اور ان سے اس گھر کے بارے میں پوچھ گچھ کی.. پڑوسیوں نے بتلایا یہ ایک عورت کا گھر ھے اور اس نے کپڑے کے ایک تاجر سے شادی کر رکھی ھے.. باندی یہ معلومات حاصل کرکے اپنی مالکہ کے پاس آئی اور سارا معاملہ اسے بتلایا.. مالکہ نے اسے کہا خبردار ! اس قصے کے متعلق کسی کو کچھ پتہ...
Read More of Baghdad Ka Tajar

Jews Master Plan

0
Jews Master Plan سال 2014-15ءمیں چار خونی چاند گرہن ¾ یہودیوں کو عالمی بادشاہت کے خواب دکھائی دینے لگے ¾ 8 اکتوبر کا بلڈ مون قریب آنے لگا ¾ آئندہ سال ستمبر تک پاکستان کو ڈی نیوکلیئرائز کرنے کی سازش پر کام شروع ¾ داعش کے خلاف کارروائی بھی اسی مذموم منصوبے کا حصہ ¾ اسرائیل بحیرہ احمر پر قبضے کےلئے سرگرم ¾ حرمین الشریفین کے گرد 31 اڈے قائم کرلئے ۔یہ انکشافات عالمی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کئے گئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ معروف عالمی کتاب ” اوبامہ وار“ میں واضح لکھا ہے کہ سال 2014-15ءکے دوران پاکستان کو ہر صورت ایٹمی اثاثوں سے محروم کرنا ہے کیونکہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اہل یہود کےلئے خطرے کی علامت ہے ۔ عرب سپرنگ تحریک بھی درحقیقت مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایک سازش تھی تاکہ بتدریج پورے مشرق وسطیٰ پر اسرائیل کا کنٹرول حاصل کیا جاسکے ۔ ناسا کے مطابق سال 2014-15ءمیں چار خونی چاند گرہن ہونے ہیں جن کو بلڈ مون بھی کہا جاتا ہے اس سلسلے کا پہلا خونی چاند گرہن 15 اپریل کو لگ چکا ہے اور دوسرا بلڈ مون 8 اکتوبر کو آرہا ہے اگلے دو بلڈ مون 2015ءمیں ہونگے جن میں سے ایک 4 اپریل اور دوسرا اور آخری 28 ستمبر 2015ءکو لگے گا ۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 صدیوں کے دوران ایسے خونی چاند گرہن صرف تین بار وقوع پذیر ہوئے ہیں اور ہر بار یہودیوں کے مذہبی تہوار جاری تھے ۔ آئندہ خونی چاند گرہن بھی یہودیوں کے مذہبی تہواروں کے درمیان آرہے ہیں جس کے بارے میں یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ بلڈ مون کے بعد دنیا میں ہماری بادشاہت قائم ہوگی اگرچہ اسرائیل کے خلاف جنگ چھیڑی جائے گی لیکن اسرائیل ہی فاتح ہوگا اس سلسلے میں یہودی آج دیوار گریہ پر دعائیں مانگ رہے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق غزہ پر حالیہ بمباری مسلمانوں کےلئے ٹیسٹ کیس تھا کیونکہ اسرائیل کا اصل ہدف مسجد اقصیٰ کو شہید کرنا اور ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا ہے ۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ کے سامنے یہ الفاظ لکھے ہیں کہ ” اے اسرائیل تیری سرحدیں نیل سے فرات تک ہیں ‘ اس منصوبے کے تحت اسرائیل دریائے نیل تک مصر ¾ اردن ¾ شام ¾ لبنان ¾ عراق ¾ ترکی کے جنوبی علاقے اور حجاز تک کو...
Read More of Jews Master Plan

Badshah aur Kashti

0
Badshah aur Kashti ایک بادشاہ کشتی میں بیٹھ کر دریا کی سیر کر رہا تھا۔ کشتی اس لیئے کہ کروز اور لانچ کا دور نہ تھا۔ آبدوز بھی ایجاد نہ ہوئی تھی۔ کچھ درباری اور چند غلام بھی ساتھ تھے۔ وہ ساتھ نہ ہوتے تو پروٹو کول کسطرح پورا ہوتا۔ سب کہتے کتنا غریب بادشاہ ہے۔ بغیر پروٹوکول کے پھرتا ہے۔ یہ سارے غلام ایسے تھے جو پہلے کبھی کشتی میں نہ بیٹھے تھے اور شوق میں ساتھ چلے آئے تھے اور اب پچھتا رہے تھے۔ مگر اک ایسا تھا جو اپنا خوف نہ چھپا پا رہا تھا۔ اور ڈوب جانے کے خوف سے رو رہا تھا۔ موت برحق ہے والے مقولے پر اس کا ایمان بہت ناپختہ تھا۔ بادشاہ کو اس کی بھوں بھوں کر کے رونے کی آواز سے سخت الجھن ہو رہی تھی لیکن غلام پر منع کرنے اور ڈانٹنے ڈپٹنے کا بالکل اثر نہ ہوا اور وہ یونہی روتا رہا۔ بادشاہ سوچ رہا تھا کہ واپس جا کر اسکی گردن مار دینے کا حکم دے دے گا۔کشتی میں ایک جہاندیدہ اور دانا شخص بھی سوار تھا ۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ یہ اک مسافر کشتی تھی اور بادشاہ کو درباریوں نے مکمل کشتی کرائے پر لینے کی بجائے ضرورت کے مطابق ہی کرایہ ادا کر کے بقیہ رقم ڈکا ر لی تھی۔ کہ بادشاہ کو کونسا پتہ چلے گا۔ اور ملاح سے سازباز کر رکھی تھی کہ مسافر کو اپنا رشتےدار بتا دے اگر بادشاہ پوچھ بیٹھے۔دوسری مصلحت یہ بھی تھی کہ اگر اسکو بھی نکال دیتے تو حکایت آگے کیسے بڑھتی۔ اب دانا شخص نے فلمی انداز میں یکلخت کھڑے ہو کر کہا کہ اگر حضور اجازت دیں تو یہ خادم اس خوفزدہ غلام کا ڈر دور کر دے؟ تو بادشاہ جو پہلے ہی شیخ سعدی کے دور کے عقلمندوں کو یاد کر رہاتھا خوش ہوگیا کہ لو آیا اک دانا۔ اور اجازت عطا فرمائی۔ دانشمند شخص نے اک نگاہ تکبرانہ سب بیوقوفوں مع بادشاہ پر ڈالی اور بقیہ غلاموں کو حکم دیا کہ اس والے غلام کو اٹھا کر دریا میں پھینک دو۔ درحقیقت وہ اک اذیت پسند شخص تھا۔ وگرنہ غلام کی توجہ باتوں میں لگا کر بھی بٹائی جا سکتی تھی۔ مگر ان دنوں شائد اس قسم کے موضوعات پر تحقیق نہ ہوتی تھی۔ غلاموں نے حکم کی تعمیل کی اور رونے والے غلام کو...
Read More of Badshah aur Kashti

« Previous Entries

Popular Articles
Random Articles